میری سنجیدہ طبیعت پہ بھی شک ہے سب کو
بعض لوگوں نے تو بیمار سمجھ رکھا ہے
حسیب سوز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تیرے مہماں کے سواگت کا کوئی پھول تھے ہم
جو بھی نکلا ہمیں پیروں سے کچل کر نکلا
حسیب سوز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تو ایک سال میں اک سانس بھی نہ جی پایا
میں ایک سجدے میں صدیاں کئی گزار گیا
حسیب سوز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
وہ ایک رات کی گردش میں اتنا ہار گیا
لباس پہنے رہا اور بدن اتار گیا
حسیب سوز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
یہاں مضبوط سے مضبوط لوہا ٹوٹ جاتا ہے
کئی جھوٹے اکٹھے ہوں تو سچا ٹوٹ جاتا ہے
حسیب سوز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
یہ بد نصیبی نہیں ہے تو اور پھر کیا ہے
سفر اکیلے کیا ہم سفر کے ہوتے ہوئے
حسیب سوز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
یہ انتقام ہے یا احتجاج ہے کیا ہے
یہ لوگ دھوپ میں کیوں ہیں شجر کے ہوتے ہوئے
حسیب سوز

