EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

عشق میں خواب کا خیال کسے
نہ لگی آنکھ جب سے آنکھ لگی

حسرتؔ عظیم آبادی




کافر عشق ہوں اے شیخ پہ زنہار نہیں
تیری تسبیح کو نسبت مری زنار کے ساتھ

حسرتؔ عظیم آبادی




کھیلیں آپس میں پری چہرہ جہاں زلفیں کھول
کون پوچھے ہے وہاں حال پریشاں میرا

حسرتؔ عظیم آبادی




ماخوذ ہوگے شیخ ریا کار روز حشر
پڑھتے ہو تم عذاب کی آیات بے طرح

حسرتؔ عظیم آبادی




میں حسرتؔ مجتہد ہوں بت پرستی کی طریقت کا
نہ پوچھو مجھ کو کیسا کفر ہے اسلام کیا ہوگا

حسرتؔ عظیم آبادی




مے کشی میں رکھتے ہیں ہم مشرب درد شراب
جام مے چلتا جہاں دیکھا وہاں پر جم گئے

حسرتؔ عظیم آبادی




مت ہلاک اتنا کرو مجھ کو ملامت کر کر
نیک نامو تمہیں کیا مجھ سے ہے بد نام سے کام

حسرتؔ عظیم آبادی