کبھی کتابوں میں پھول رکھنا کبھی درختوں پہ نام لکھنا
ہمیں بھی ہے یاد آج تک وہ نظر سے حرف سلام لکھنا
حسن رضوی
نہ وہ اقرار کرتا ہے نہ وہ انکار کرتا ہے
ہمیں پھر بھی گماں ہے وہ ہمیں سے پیار کرتا ہے
حسن رضوی
تھا جو ایک لمحہ وصال کا وہ ریاض تھا کئی سال کا
وہی ایک پل میں گزر گیا جسے عمر گزری پکارتے
حسن رضوی
یہ اس کے پیار کی باتیں فقط قصے پرانے ہیں
بھلا کچے گھڑے پر کون دریا پار کرتا ہے
حسن رضوی
غم حیات نے فرصت نہ دی سنانے کی
چلے تھے ہم بھی محبت کی داستاں لے کر
حسن طاہر
یہاں نہ میں ہوں نہ تو ہے نہ کوئی شہنائی
پہنچ گئی ہے تری آرزو کہاں لے کر
حسن طاہر
در و دیوار بھی گھر کے بہت مایوس تھے ہم سے
سو ہم بھی رات اس جاگیر سے باہر نکل آئے
حسیب سوز

