EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کبھی کتابوں میں پھول رکھنا کبھی درختوں پہ نام لکھنا
ہمیں بھی ہے یاد آج تک وہ نظر سے حرف سلام لکھنا

حسن رضوی




نہ وہ اقرار کرتا ہے نہ وہ انکار کرتا ہے
ہمیں پھر بھی گماں ہے وہ ہمیں سے پیار کرتا ہے

حسن رضوی




تھا جو ایک لمحہ وصال کا وہ ریاض تھا کئی سال کا
وہی ایک پل میں گزر گیا جسے عمر گزری پکارتے

حسن رضوی




یہ اس کے پیار کی باتیں فقط قصے پرانے ہیں
بھلا کچے گھڑے پر کون دریا پار کرتا ہے

حسن رضوی




غم حیات نے فرصت نہ دی سنانے کی
چلے تھے ہم بھی محبت کی داستاں لے کر

حسن طاہر




یہاں نہ میں ہوں نہ تو ہے نہ کوئی شہنائی
پہنچ گئی ہے تری آرزو کہاں لے کر

حسن طاہر




در و دیوار بھی گھر کے بہت مایوس تھے ہم سے
سو ہم بھی رات اس جاگیر سے باہر نکل آئے

حسیب سوز