وصل کی شب تھی اور اجالے کر رکھے تھے
جسم و جاں سب اس کے حوالے کر رکھے تھے
حیدر قریشی
ٹیگز:
| ویزا |
| 2 لائنیں شیری |
اپنا ہی حال تک نہ کھلا مجھ کو تابہ مرگ
میں کون ہوں کہاں سے چلا تھا کہاں گیا
حیرت الہ آبادی
ٹیگز:
| رااز |
| 2 لائنیں شیری |
کہا عاشق سے واقف ہو تو فرمایا نہیں واقف
مگر ہاں اس طرف سے ایک نامحرم نکلتا ہے
حیرت الہ آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
غریبی امیری ہے قسمت کا سودا
ملو آدمی کی طرح آدمی سے
حیرت گونڈوی
ٹیگز:
| تعظیم |
| 2 لائنیں شیری |
گلوں سے نہیں شاخ کے دل سے پوچھو
کہ یہ بد نما خار کتنا حسیں ہے
حیرت گونڈوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہنس ہنس کے اپنا دامن رنگیں دیا مجھے
اور میں نے تار تار کیا ہائے کیا کیا
حیرت گونڈوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
حسن ہے کافر بنانے کے لیے
عشق ہے ایمان لانے کے لیے
حیرت گونڈوی

