EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کچھ مری بے قراریاں کچھ مری ناتوانیاں
کچھ تری رحمتوں کا ہے ہاتھ مرے گناہ میں

حیرت گونڈوی




مجھے اے رہنما اب چھوڑ تنہا
میں خود کو آزمانا چاہتا ہوں

حیرت گونڈوی




رہ رہ کے کوندتی ہیں اندھیرے میں بجلیاں
تم یاد کر رہے ہو کہ یاد آ رہے ہو تم

حیرت گونڈوی




جو چل پڑے تھے عزم سفر لے کے تھک گئے
جو لڑکھڑا رہے تھے وہ منزل پہ آئے ہیں

حیرت سہروردی




کیا معلوم کسی کی مشکل
خود داری ہے یا خود بینی

حیرت شملوی




اگرچہ اس کی ہر اک بات کھردری ہے بہت
مجھے پسند ہے ڈھنگ اس کے بات کرنے کا

حکیم منظور




اپنی نظر سے ٹوٹ کر اپنی نظر میں گم ہوا
وہ بڑا با شعور تھا اپنے ہی گھر میں گم ہوا

حکیم منظور