EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جو میرے پاس تھا سب لوٹ لے گیا کوئی
کواڑ بند رکھوں اب مجھے ہے ڈر کس کا

حکیم منظور




مجھ میں تھے جتنے عیب وہ میرے قلم نے لکھ دیئے
مجھ میں تھا جتنا حسن وہ میرے ہنر میں گم ہوا

حکیم منظور




نہ جانے کس لیے روتا ہوں ہنستے ہنستے میں
بسا ہوا ہے نگاہوں میں آئینہ کوئی

حکیم منظور




ریزہ ریزہ رات بھر جو خوف سے ہوتا رہا
دن کو سانسوں پر ابھی تک بوجھ اس پتھر کا ہے

حکیم منظور




شہر کے آئین میں یہ مد بھی لکھی جائے گی
زندہ رہنا ہے تو قاتل کی سفارش چاہیئے

حکیم منظور




تیری آنکھوں میں آنسو بھی دیکھے ہیں
تیرے ہاتھوں میں دیکھا ہے خنجر بھی

حکیم منظور




تجھ پہ کھل جائیں گے خود اپنے بھی اسرار کئی
تو ذرا مجھ کو بھی رکھ اپنے برابر میں کبھی

حکیم منظور