EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کیا ضروری ہے جوئے شیر کی بات
کیوں نہ گنگ و جمن کی بات کریں

حیدر علی جعفری




سبھی تو دوست ہیں کیوں شک عبث ہوا مجھ کو
کسی کے ہاتھ کا پتھر مری تلاش میں ہے

حیدر علی جعفری




چاند بن کر چمکنے والے نے
مجھ کو سورج مثال کر ڈالا

حیدر قریشی




درختوں پر پرندے لوٹ آنا چاہتے ہیں
خزاں رت کا گزر جانا ضروری ہو گیا ہے

حیدر قریشی




دل کو تو بہت پہلے سے دھڑکا سا لگا تھا
پانا ترا شاید تجھے کھونے کے لیے ہے

حیدر قریشی




موت سے پہلے جہاں میں چند سانسوں کا عذاب
زندگی جو قرض تیرا تھا ادا کر آئے ہیں

حیدر قریشی




پانی میں بھی چاند ستارے اگ آتے ہیں
آنکھ سے دل تک وہ زرخیزی ہو جاتی ہے

حیدر قریشی