ترے ابروئے پیوستہ کا عالم میں فسانہ ہے
کسی استاد شاعر کا یہ بیت عاشقانہ ہے
حیدر علی آتش
اس بلائے جاں سے آتشؔ دیکھیے کیوں کر بنے
دل سوا شیشے سے نازک دل سے نازک خوئے دوست
حیدر علی آتش
اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے
حیدر علی آتش
وہی پستی و بلندی ہے زمیں کی آتش
وہی گردش میں شب و روز ہیں افلاک ہنوز
حیدر علی آتش
وحشت دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیدا
سیکڑوں کوس نہیں صورت انساں پیدا
حیدر علی آتش
یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا
رات بھر طالع بیدار نے سونے نہ دیا
حیدر علی آتش
یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے
ہم اور بلبل بے تاب گفتگو کرتے
حیدر علی آتش

