یہ دل لگانے میں میں نے مزا اٹھایا ہے
ملا نہ دوست تو دشمن سے اتحاد کیا
حیدر علی آتش
زیارت ہوگی کعبہ کی یہی تعبیر ہے اس کی
کئی شب سے ہمارے خواب میں بت خانہ آتا ہے
حیدر علی آتش
آئے ٹھہرے اور روانہ ہو گئے
زندگی کیا ہے، سفر کی بات ہے
حیدر علی جعفری
بھلا نہ پایا اسے جس کو بھول جانا تھا
وفاؤں سے مرا رشتہ بہت پرانا تھا
حیدر علی جعفری
کھینچ دیتا میں زمانے پہ محبت کے نقوش
میرے قبضے میں اگر خامۂ شہ پر ہوتا
حیدر علی جعفری
خون مزدور کا ملتا جو نہ تعمیروں میں
نہ حویلی نہ محل اور نہ کوئی گھر ہوتا
حیدر علی جعفری
کس کی صدا فضاؤں میں گونجی ہے چار سو
کس نے مجھے پکارا ہے بچپن کے نام سے
حیدر علی جعفری

