EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ دل لگانے میں میں نے مزا اٹھایا ہے
ملا نہ دوست تو دشمن سے اتحاد کیا

حیدر علی آتش




زیارت ہوگی کعبہ کی یہی تعبیر ہے اس کی
کئی شب سے ہمارے خواب میں بت خانہ آتا ہے

حیدر علی آتش




آئے ٹھہرے اور روانہ ہو گئے
زندگی کیا ہے، سفر کی بات ہے

حیدر علی جعفری




بھلا نہ پایا اسے جس کو بھول جانا تھا
وفاؤں سے مرا رشتہ بہت پرانا تھا

حیدر علی جعفری




کھینچ دیتا میں زمانے پہ محبت کے نقوش
میرے قبضے میں اگر خامۂ شہ پر ہوتا

حیدر علی جعفری




خون مزدور کا ملتا جو نہ تعمیروں میں
نہ حویلی نہ محل اور نہ کوئی گھر ہوتا

حیدر علی جعفری




کس کی صدا فضاؤں میں گونجی ہے چار سو
کس نے مجھے پکارا ہے بچپن کے نام سے

حیدر علی جعفری