EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

خاموش ہو گئیں جو امنگیں شباب کی
پھر جرأت گناہ نہ کی ہم بھی چپ رہے

حفیظ جالندھری




خدا کو نہ تکلیف دے ڈوبنے میں
کسی ناخدا کے سہارے چلا چل

حفیظ جالندھری




کس منہ سے کہہ رہے ہو ہمیں کچھ غرض نہیں
کس منہ سے تم نے وعدہ کیا تھا نباہ کا

حفیظ جالندھری




کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا
کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا

حفیظ جالندھری




کوئی دوا نہ دے سکے مشورۂ دعا دیا
چارہ گروں نے اور بھی درد دل کا بڑھا دیا

حفیظ جالندھری




کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے
اب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہے

حفیظ جالندھری




مبادا پھر اسیر دام عقل و ہوش ہو جاؤں
جنوں کا اس طرح اچھا نہیں حد سے گزر جانا

حفیظ جالندھری