خاموش ہو گئیں جو امنگیں شباب کی
پھر جرأت گناہ نہ کی ہم بھی چپ رہے
حفیظ جالندھری
خدا کو نہ تکلیف دے ڈوبنے میں
کسی ناخدا کے سہارے چلا چل
حفیظ جالندھری
کس منہ سے کہہ رہے ہو ہمیں کچھ غرض نہیں
کس منہ سے تم نے وعدہ کیا تھا نباہ کا
حفیظ جالندھری
کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا
کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا
حفیظ جالندھری
کوئی دوا نہ دے سکے مشورۂ دعا دیا
چارہ گروں نے اور بھی درد دل کا بڑھا دیا
حفیظ جالندھری
کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے
اب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہے
حفیظ جالندھری
مبادا پھر اسیر دام عقل و ہوش ہو جاؤں
جنوں کا اس طرح اچھا نہیں حد سے گزر جانا
حفیظ جالندھری

