EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہاں میں تو لیے پھرتا ہوں اک سجدۂ بیتاب
ان سے بھی تو پوچھو وہ خدا ہیں کہ نہیں ہیں

حفیظ جالندھری




ہاتھ رکھ رکھ کے وہ سینے پہ کسی کا کہنا
دل سے درد اٹھتا ہے پہلے کہ جگر سے پہلے

حفیظ جالندھری




حفیظؔ اہل زباں کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں

حفیظ جالندھری




حفیظؔ اپنی بولی محبت کی بولی
نہ اردو نہ ہندی نہ ہندوستانی

حفیظ جالندھری




ہے مدعائے عشق ہی دنیائے مدعا
یہ مدعا نہ ہو تو کوئی مدعا نہ ہو

حفیظ جالندھری




ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے
تم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکے

حفیظ جالندھری




ہم سے یہ بار لطف اٹھایا نہ جائے گا
احساں یہ کیجئے کہ یہ احساں نہ کیجئے

حفیظ جالندھری