EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دیکھا نہ کاروبار محبت کبھی حفیظؔ
فرصت کا وقت ہی نہ دیا کاروبار نے

حفیظ جالندھری




دل کو خدا کی یاد تلے بھی دبا چکا
کم بخت پھر بھی چین نہ پائے تو کیا کروں

حفیظ جالندھری




دل لگاؤ تو لگاؤ دل سے دل
دل لگی ہی دل لگی اچھی نہیں

حفیظ جالندھری




دل نے آنکھوں تک آنے میں اتنا وقت لیا
دور تھا کیسے یہ بت خانہ اب معلوم ہوا

حفیظ جالندھری




دل سبھی کچھ زبان پر لایا
اک فقط عرض مدعا کے سوا

حفیظ جالندھری




ہائے کوئی دوا کرو ہائے کوئی دعا کرو
ہائے جگر میں درد ہے ہائے جگر کو کیا کروں

حفیظ جالندھری




ہاں کیف بے خودی کی وہ ساعت بھی یاد ہے
محسوس کر رہا تھا خدا ہو گیا ہوں میں

حفیظ جالندھری