EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہمیشہ کے لیے خاموش ہو کر
نئی طرز فغاں والے نے مارا

حفیظ جالندھری




الٰہی ایک غم روزگار کیا کم تھا
کہ عشق بھیج دیا جان مبتلا کے لیے

حفیظ جالندھری




ان تلخ آنسوؤں کو نہ یوں منہ بنا کے پی
یہ مے ہے خودکشید اسے مسکرا کے پی

حفیظ جالندھری




ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے

حفیظ جالندھری




جیسے ویرانے سے ٹکرا کے پلٹتی ہے صدا
دل کے ہر گوشے سے آئی تری آواز مجھے

حفیظ جالندھری




جس نے اس دور کے انسان کیے ہیں پیدا
وہی میرا بھی خدا ہو مجھے منظور نہیں

حفیظ جالندھری




کیسے بند ہوا مے خانہ اب معلوم ہوا
پی نہ سکا کم ظرف زمانہ اب معلوم ہوا

حفیظ جالندھری