EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں وہ بستی ہوں کہ یاد رفتگاں کے بھیس میں
دیکھنے آتی ہے اب میری ہی ویرانی مجھے

حفیظ جالندھری




میری قسمت کے نوشتے کو مٹا دے کوئی
مجھ کو قسمت کے نوشتے نے مٹا رکھا ہے

حفیظ جالندھری




مرا تجربہ ہے کہ اس زندگی میں
پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں

حفیظ جالندھری




مرے ڈوب جانے کا باعث نہ پوچھو
کنارے سے ٹکرا گیا تھا سفینہ

حفیظ جالندھری




مری مجبوریاں کیا پوچھتے ہو
کہ جینے کے لیے مجبور ہوں میں

حفیظ جالندھری




محبت کرو اور نباہو تو پوچھوں
یہ دشواریاں ہیں کہ آسانیاں ہیں

حفیظ جالندھری




مجھ کو نہ سنا خضر و سکندر کے فسانے
میرے لیے یکساں ہے فنا ہو کہ بقا ہو

حفیظ جالندھری