EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

قائم کیا ہے میں نے عدم کے وجود کو
دنیا سمجھ رہی ہے فنا ہو گیا ہوں میں

حفیظ جالندھری




رنگ بدلا یار نے وہ پیار کی باتیں گئیں
وہ ملاقاتیں گئیں وہ چاندنی راتیں گئیں

حفیظ جالندھری




سناتا ہے کیا حیرت انگیز قصے
حسینوں میں کھوئی ہو جس نے جوانی

حفیظ جالندھری




سپرد خاک ہی کرنا تھا مجھ کو
تو پھر کاہے کو نہلایا گیا ہوں

حفیظ جالندھری




تنہائی فراق میں امید بارہا
گم ہو گئی سکوت کے ہنگامہ زار میں

حفیظ جالندھری




تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تک
قیامت آ چکی ہے لوگ کہتے ہیں شباب آیا

حفیظ جالندھری




توبہ توبہ شیخ جی توبہ کا پھر کس کو خیال
جب وہ خود کہہ دے کہ پی تھوڑی سی پی میرے لیے

حفیظ جالندھری