کوئی جگنو کوئی تارا کوئی سورج کوئی چاند
اور عجب بات کہ محروم اجالا سب ہیں
غفران امجد
نواح لفظ و معانی میں گونج ہے کس کی
کوئی بتائے یہ امجدؔ کہ ہم بتائیں گے
غفران امجد
آہ! کل تک وہ نوازش! آج اتنی بے رخی
کچھ تو نسبت چاہئے انجام کو آغاز سے
غلام بھیک نیرنگ
دانہ و دام سنبھالا مرے صیاد نے پھر
اپنی گردن ہے وہی عشق کا پھندا ہے وہی
غلام بھیک نیرنگ
درد الفت کا نہ ہو تو زندگی کا کیا مزا
آہ و زاری زندگی ہے بے قراری زندگی
غلام بھیک نیرنگ
کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی
ہم کو اگر میسر جاناں کی دید ہوتی
غلام بھیک نیرنگ
محو دید چمن شوق ہے پھر دیدۂ شوق
گل شاداب وہی بلبل شیدا ہے وہی
غلام بھیک نیرنگ

