EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میرے پہلو میں تم آؤ یہ کہاں میرے نصیب
یہ بھی کیا کم ہے تصور میں تو آ جاتے ہو

غلام بھیک نیرنگ




ناز نے پھر کیا آغاز وہ انداز نیاز
حسن جاں سوز کو پھر سوز کا دعویٰ ہے وہی

غلام بھیک نیرنگ




آج کھلا دشمن کے پیچھے دشمن تھے
اور وہ لشکر اس لشکر کی اوٹ میں تھا

غلام حسین ساجد




اگر ہے انسان کا مقدر خود اپنی مٹی کا رزق ہونا
تو پھر زمیں پر یہ آسماں کا وجود کس قہر کے لیے ہے

غلام حسین ساجد




ڈھونڈ لایا ہوں خوشی کی چھاؤں جس کے واسطے
ایک غم سے بھی اسے دو چار کرنا ہے مجھے

غلام حسین ساجد




ایک خواہش ہے جو شاید عمر بھر پوری نہ ہو
ایک سپنے سے ہمیشہ پیار کرنا ہے مجھے

غلام حسین ساجد




ہم مسافر ہیں گرد سفر ہیں مگر اے شب ہجر ہم کوئی بچے نہیں
جو ابھی آنسوؤں میں نہا کر گئے اور ابھی مسکراتے پلٹ آئیں گے

غلام حسین ساجد