حکایت عشق سے بھی دل کا علاج ممکن نہیں کہ اب بھی
فراق کی تلخیاں وہی ہیں وصال کی آرزو وہی ہے
غلام حسین ساجد
اس اندھیرے میں چراغ خواب کی خواہش نہیں
یہ بھی کیا کم ہے کہ تھوڑی دیر سو جاتا ہوں میں
غلام حسین ساجد
عشق کی دسترس میں کچھ بھی نہیں
جان من! میرے بس میں کچھ بھی نہیں
غلام حسین ساجد
عشق پر فائز ہوں اوروں کی طرح لیکن مجھے
وصل کا لپکا نہیں ہے ہجر سے وحشت نہیں
غلام حسین ساجد
عشق پر اختیار ہے کس کا
فائدہ پیش و پس میں کچھ بھی نہیں
غلام حسین ساجد
جی میں آتا ہے کہ دنیا کو بدلنا چاہئے
اور اپنے آپ سے مایوس ہو جاتا ہوں میں
غلام حسین ساجد
جس قدر مہمیز کرتا ہوں میں ساجدؔ وقت کو
اس قدر بے صبر رہنے کی اسے عادت نہیں
غلام حسین ساجد

