EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

حکایت عشق سے بھی دل کا علاج ممکن نہیں کہ اب بھی
فراق کی تلخیاں وہی ہیں وصال کی آرزو وہی ہے

غلام حسین ساجد




اس اندھیرے میں چراغ خواب کی خواہش نہیں
یہ بھی کیا کم ہے کہ تھوڑی دیر سو جاتا ہوں میں

غلام حسین ساجد




عشق کی دسترس میں کچھ بھی نہیں
جان من! میرے بس میں کچھ بھی نہیں

غلام حسین ساجد




عشق پر فائز ہوں اوروں کی طرح لیکن مجھے
وصل کا لپکا نہیں ہے ہجر سے وحشت نہیں

غلام حسین ساجد




عشق پر اختیار ہے کس کا
فائدہ پیش و پس میں کچھ بھی نہیں

غلام حسین ساجد




جی میں آتا ہے کہ دنیا کو بدلنا چاہئے
اور اپنے آپ سے مایوس ہو جاتا ہوں میں

غلام حسین ساجد




جس قدر مہمیز کرتا ہوں میں ساجدؔ وقت کو
اس قدر بے صبر رہنے کی اسے عادت نہیں

غلام حسین ساجد