EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کبھی محبت سے باز رہنے کا دھیان آئے تو سوچتا ہوں
یہ زہر اتنے دنوں سے میرے وجود میں کیسے پل رہا ہے

غلام حسین ساجد




کسی کی یاد سے دل کا اندھیرا اور بڑھتا ہے
یہ گھر میرے سلگنے سے منور ہو نہیں سکتا

غلام حسین ساجد




کسی نے فقر سے اپنے خزانے بھر لیے لیکن
کسی نے شہریاروں سے بھی سیم و زر نہیں پائے

غلام حسین ساجد




لوٹ جانے کی اجازت نہیں دوں گا اس کو
کوئی اب میرے تعاقب میں اگر آتا ہے

غلام حسین ساجد




میں ایک مدت سے اس جہاں کا اسیر ہوں اور سوچتا ہوں
یہ خواب ٹوٹے گا کس قدم پر یہ رنگ چھوٹے گا کب لہو سے

غلام حسین ساجد




میں ہوں مگر آج اس گلی کے سبھی دریچے کھلے ہوئے ہیں
کہ اب میں آزاد ہو چکا ہوں تمام آنکھوں کے دائروں سے

غلام حسین ساجد




میں رزق خواب ہو کے بھی اسی خیال میں رہا
وہ کون ہے جو زندگی کے امتحان میں نہیں

غلام حسین ساجد