EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کوئی سمجھاؤ انہیں بہر خدا اے مومنو
اس صنم کے عشق میں جو مجھ کو سمجھاتے ہیں لوگ

غمگین دہلوی




میری یہ آرزو ہے وقت مرگ
اس کی آواز کان میں آوے

غمگین دہلوی




مجھے جو دوستی ہے اس کو دشمنی مجھ سے
نہ اختیار ہے اس کا نہ میرا چارا ہے

غمگین دہلوی




شمع رو عاشق کو اپنے یوں جلانا چاہیئے
کچھ ہنسانا چاہیئے اور کچھ رلانا چاہیئے

غمگین دہلوی




وہ لطف اٹھائے گا سفر کا
آپ اپنے میں جو سفر کرے گا

غمگین دہلوی




عجیب بات ہمارا ہی خوں ہوا پانی
ہمیں نے آگ میں اپنے بدن بھگوئے تھے

غضنفر




بچ کے دنیا سے گھر چلے آئے
گھر سے بچنے مگر کدھر جائیں

غضنفر