EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نہ جانے کس طرح بستر میں گھس کر بیٹھ جاتی ہیں
وہ آوازیں جنہیں ہم روز باہر چھوڑ آتے ہیں

غضنفر




رفتہ رفتہ آنکھوں کو حیرانی دے کر جائے گا
خوابوں کا یہ شوق ہمیں ویرانی دے کر جائے گا

غضنفر




تمہارے ہوتے ہوئے لوگ کیوں بھٹکتے ہیں
کہیں پہ خضر نظر آئے تو سوال کروں

غضنفر




ذہن کے خانوں میں جانے وقت نے کیا بھر دیا
بے سبب ہونے لگی اک ایک سے ان بن مری

غضنفر




عجب طرح کا ادھوراپن ہے مرے بیاں میں
سو میرا قصہ کہیں سنانے میں رہ گیا ہے

غضنفر ہاشمی




کوئی سبب تو تھا کہ غوثؔ فہم و ذکا کے باوجود
کار ثواب چھوڑ کر کار گناہ میں رہے

غوث متھراوی




کب سے بنجر تھی نظر خواب تو آیا
شکر ہے دشت میں سیلاب تو آیا

غفران امجد