دفتر میں ذہن گھر نگہ راستے میں پاؤں
جینے کی کاوشوں میں بدن ہاتھ سے گیا
غضنفر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہم کہ ساحل کے تصور سے سہم جاتے ہیں
لوگ کس طرح سمندر میں اترتے ہوں گے
غضنفر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہمارے ہاتھ سے وہ بھی نکل گیا آخر
کہ جس خیال میں ہم مدتوں سے کھوئے تھے
غضنفر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہر ایک رات کہیں دور بھاگ جاتا ہوں
ہر ایک صبح کوئی مجھ کو کھینچ لاتا ہے
غضنفر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کل تک جو شفاف تھے چہرے آوازوں سے خالی تھے
آڑی ترچھی سرخ لکیریں ان پر بھی اب دیکھو گے
غضنفر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں ایسا نرم طبیعت کبھی نہ تھا پہلے
ضرور لمس کوئی اس کا چھو گیا مجھ کو
غضنفر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں اس کے جھوٹ کو بھی سچ سمجھ کے سنتا ہوں
کہ اس کے جھوٹ میں بھی زندگی کی قوت ہے
غضنفر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

