EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دفتر میں ذہن گھر نگہ راستے میں پاؤں
جینے کی کاوشوں میں بدن ہاتھ سے گیا

غضنفر




ہم کہ ساحل کے تصور سے سہم جاتے ہیں
لوگ کس طرح سمندر میں اترتے ہوں گے

غضنفر




ہمارے ہاتھ سے وہ بھی نکل گیا آخر
کہ جس خیال میں ہم مدتوں سے کھوئے تھے

غضنفر




ہر ایک رات کہیں دور بھاگ جاتا ہوں
ہر ایک صبح کوئی مجھ کو کھینچ لاتا ہے

غضنفر




کل تک جو شفاف تھے چہرے آوازوں سے خالی تھے
آڑی ترچھی سرخ لکیریں ان پر بھی اب دیکھو گے

غضنفر




میں ایسا نرم طبیعت کبھی نہ تھا پہلے
ضرور لمس کوئی اس کا چھو گیا مجھ کو

غضنفر




میں اس کے جھوٹ کو بھی سچ سمجھ کے سنتا ہوں
کہ اس کے جھوٹ میں بھی زندگی کی قوت ہے

غضنفر