EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تمہارے در سے اٹھائے گئے ملال نہیں
وہاں تو چھوڑ کے آئے ہیں ہم غبار اپنا

غالب ایاز




زندگانی میں سبھی رنگ تھے محرومی کے
تجھ کو دیکھا تو میں احساس زیاں سے نکلا

غالب ایاز




رنگوں کی بارشوں سے دھندلا گیا ہے منظر
آیا ہوا ہے کوئی طوفان آئنے میں

غالب عرفان




غمگیںؔ جو ایک آن پہ تیرے ادا ہوا
کیا خوش ادا اسے تری اے خوش ادا لگی

غمگین دہلوی




ہاتھ سے میرے وہ پیتا نہیں مدت سے شراب
یارو کیا اپنی خوشی میں نے پلانا چھوڑا

غمگین دہلوی




جام لے کر مجھ سے وہ کہتا ہے اپنے منہ کو پھیر
رو بہ رو یوں تیرے مے پینے سے شرماتے ہیں ہم

غمگین دہلوی




کیا بد نام اک عالم نے غمگیںؔ پاک بازی میں
جو میں تیری طرح سے بد نظر ہوتا تو کیا ہوتا

غمگین دہلوی