EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

گزشتہ سال جو دیکھا وہ اب کی سال نہیں
زمانہ ایک سا بس ہر برس نہیں چلتا

جارج پیش شور




ہے تلاش دو جہاں لیکن خبر اپنی کسے
جیتے جی تک جستجو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیں

جارج پیش شور




ہوا کے گھوڑے پہ رہتا ہے وہ سوار مدام
کسی کا اس کے برابر فرس نہیں چلتا

جارج پیش شور




اک خیال و خواب ہے اے شورؔ یہ بزم جہاں
یار اور جام و سبو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیں

جارج پیش شور




اک نظر نے کیا ہے کام تمام
آرزو بھی تو تھی یہی دل کی

جارج پیش شور




اسی خیال میں دن رات میں تڑپتا ہوں
تمہیں قرار بھی دو گے جو بے قرار کیا

جارج پیش شور




جان پر اپنی ہائے کیوں بنتی
بات جو مانتے کبھی دل کی

جارج پیش شور