EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس ماہ رو پہ آنکھ کسی کی نہ پڑ سکی
جلوہ تھا طور کا کہ سراسر وہ نور تھا

جارج پیش شور




ذرہ کی طرح خاک میں پامال ہو گئے
وہ جن کا آسماں پہ سر پر غرور تھا

جارج پیش شور




بھلے ہی چھاؤں نہ دے آسرا تو دیتا ہے
یہ آرزو کا شجر ہے خزاں رسیدہ سہی

غالب ایاز




ہم اس کے جبر کا قصہ تمام چاہتے ہیں
اور اس کی تیغ ہمارا زوال چاہتی ہے

غالب ایاز




ہوا کے ہونٹ کھلیں ساعت کلام تو آئے
یہ ریت جیسا بدن آندھیوں کے کام تو آئے

غالب ایاز




پھر یہی رت ہو عین ممکن ہے
پر ترا انتظار ہو کہ نہ ہو

غالب ایاز




تمام عمر اسے چاہنا نہ تھا ممکن
کبھی کبھی تو وہ اس دل پہ بار بن کے رہا

غالب ایاز