EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جب جوانی گئی چھڑا کر ہاتھ
اس پہ پیری نہ کچھ چلی دل کی

جارج پیش شور




جہاں میں زر کا ہے کارخانہ نہ کوئی اپنا نہ ہے یگانہ
تلاش دولت میں ہے زمانہ خدا ہی حافظ ہے مفلسی کا

جارج پیش شور




نہیں ہے ٹوٹے کی بوٹی جہان میں پیدا
شکستہ جب ہوا تار نفس نہیں چلتا

جارج پیش شور




پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نما
آیا نظر وہ پاس جو اپنے سے دور تھا

جارج پیش شور




رکے ہے آمد و شد میں نفس نہیں چلتا
یہی ہے حکم الٰہی تو بس نہیں چلتا

جارج پیش شور




شوق نے کی جو رہبری دل کی
منزل عشق طے ہوئی دل کی

جارج پیش شور




تمہارے عشق میں کیا کیا نہ اختیار کیا
کبھی فلک کا کبھی غیر کا وقار کیا

جارج پیش شور