EN हिंदी
جگر مراد آبادی شیاری | شیح شیری

جگر مراد آبادی شیر

147 شیر

کیا بتاؤں کس قدر زنجیر پا ثابت ہوئے
چند تنکے جن کو اپنا آشیاں سمجھا تھا میں

جگر مراد آبادی




کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے

جگر مراد آبادی




کیا خبر تھی خلش ناز نہ جینے دے گی
یہ تری پیار کی آواز نہ جینے دے گی

جگر مراد آبادی




لاکھ آفتاب پاس سے ہو کر گزر گئے
ہم بیٹھے انتظار سحر دیکھتے رہے

a million suns have come and gone
still I sat waiting watching out for dawn

جگر مراد آبادی




لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیا
جس دل کو تم نے دیکھ لیا دل بنا دیا

جگر مراد آبادی




لبوں پہ موج تبسم نگہ میں برق غضب
کوئی بتائے یہ انداز برہمی کیا ہے

جگر مراد آبادی




لے کے خط ان کا کیا ضبط بہت کچھ لیکن
تھرتھراتے ہوئے ہاتھوں نے بھرم کھول دیا

جگر مراد آبادی




میں جہاں ہوں ترے خیال میں ہوں
تو جہاں ہے مری نگاہ میں ہے

جگر مراد آبادی




میں تو جب مانوں مری توبہ کے بعد
کر کے مجبور پلا دے ساقی

جگر مراد آبادی