روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ
رزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے
افتخار عارف
رند مسجد میں گئے تو انگلیاں اٹھنے لگیں
کھل اٹھے میکش کبھی زاہد جو ان میں آ گئے
افتخار عارف
روش میں گردش سیارگاں سے اچھی ہے
زمیں کہیں کی بھی ہو آسماں سے اچھی ہے
افتخار عارف
راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا
اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی
افتخار عارف
رنگ سے خوشبوؤں کا ناتا ٹوٹتا جاتا ہے
پھول سے لوگ خزاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
افتخار عارف
میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت
جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر دے
افتخار عارف
میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے
مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو
افتخار عارف
میں جس کو ایک عمر سنبھالے پھرا کیا
مٹی بتا رہی ہے وہ پیکر مرا نہ تھا
افتخار عارف
منصب نہ کلاہ چاہتا ہوں
تنہا ہوں گواہ چاہتا ہوں
افتخار عارف

