EN हिंदी
افتخار عارف شیاری | شیح شیری

افتخار عارف شیر

105 شیر

سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں
جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں

افتخار عارف




رنگ سے خوشبوؤں کا ناتا ٹوٹتا جاتا ہے
پھول سے لوگ خزاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

افتخار عارف




راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا
اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی

افتخار عارف




روش میں گردش سیارگاں سے اچھی ہے
زمیں کہیں کی بھی ہو آسماں سے اچھی ہے

افتخار عارف




رند مسجد میں گئے تو انگلیاں اٹھنے لگیں
کھل اٹھے میکش کبھی زاہد جو ان میں آ گئے

افتخار عارف




روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ
رزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے

افتخار عارف




سب لوگ اپنے اپنے قبیلوں کے ساتھ تھے
اک میں ہی تھا کہ کوئی بھی لشکر مرا نہ تھا

افتخار عارف




سپاہ شام کے نیزے پہ آفتاب کا سر
کس اہتمام سے پروردگار شب نکلا

افتخار عارف




شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا

افتخار عارف