EN हिंदी
زندگی شیاری | شیح شیری

زندگی

163 شیر

عشق کو ایک عمر چاہئے اور
عمر کا کوئی اعتبار نہیں

جگر بریلوی




بہت حسین سہی صحبتیں گلوں کی مگر
وہ زندگی ہے جو کانٹوں کے درمیاں گزرے

جگر مراد آبادی




مسرت زندگی کا دوسرا نام
مسرت کی تمنا مستقل غم

جگر مراد آبادی




موت کیا ایک لفظ بے معنی
جس کو مارا حیات نے مارا

جگر مراد آبادی




مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے
مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ

جگر مراد آبادی




اسی کو کہتے ہیں جنت اسی کو دوزخ بھی
وہ زندگی جو حسینوں کے درمیاں گزرے

جگر مراد آبادی




وہی ہے زندگی لیکن جگرؔ یہ حال ہے اپنا
کہ جیسے زندگی سے زندگی کم ہوتی جاتی ہے

جگر مراد آبادی