جنوں کم جستجو کم تشنگی کم
نظر آئے نہ کیوں دریا بھی شبنم
بحمداللہ تو ہے جس کا ہمدم
کہاں اس قلب میں گنجائش غم
توجہ بے نہایت اور نظر کم
خوشا یہ التفات حسن برہم
مری آنکھوں نے دیکھا ہے وہ عالم
کہ ہر عالم ہے لغزش ہائے پیہم
خطا کیونکر نہ ہوتی عافیت سوز
کہ جنت ہی نہ تھی معراج آدم
خوشا یہ نسبت حسن و محبت
جہاں بیٹھے نظر آئے ہمیں ہم
وہ اک حسن سراپا اللہ اللہ
کہ جس کی ہر ادا عالم ہی عالم
کہاں پہلوئے خورشید جہاں تاب
کہاں اک نازنیں دوشیزہ شبنم
مسرت زندگی کا دوسرا نام
مسرت کی تمنا مستقل غم
غزل
جنوں کم جستجو کم تشنگی کم
جگر مراد آبادی