EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس کے بارے میں بہت سوچتا ہوں
مجھ سے بچھڑا تو کدھر جائے گا

فرحت عباس شاہ




اسے زیادہ ضرورت تھی گھر بسانے کی
وہ آ کے میرے در و بام لے گیا مجھ سے

فرحت عباس شاہ




آ مجھے چھو کے ہرا رنگ بچھا دے مجھ پر
میں بھی اک شاخ سی رکھتا ہوں شجر کرنے کو

فرحت احساس




آنکھوں کی پیالیوں میں بارش مچی ہوئی ہے
صحرا میں کوئی منظر شاداب آ رہا ہے

فرحت احساس




آنکھ بھر دیکھ لو یہ ویرانہ
آج کل میں یہ شہر ہوتا ہے

فرحت احساس




اب دیکھتا ہوں میں تو وہ اسباب ہی نہیں
لگتا ہے راستے میں کہیں کھل گیا بدن

فرحت احساس




اے خدا میری رگوں میں دوڑ جا
شاخ دل پر اک ہری پتی نکال

فرحت احساس