EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

فرار ہو گئی ہوتی کبھی کی روح مری
بس ایک جسم کا احسان روک لیتا ہے

فرحت احساس




ہمارا زندہ رہنا اور مرنا ایک جیسا ہے
ہم اپنے یوم پیدائش کو بھی برسی سمجھتے ہیں

فرحت احساس




ہماری آنکھوں میں بس گیا ہے عجیب پنجاب آنسوؤں کا
ادھر سے راوی چلا ادھر سے چناب تیار ہو رہا ہے

فرحت احساس




ہمیں جب اپنا تعارف کرانا پڑتا ہے
نہ جانے کتنے دکھوں کو دبانا پڑتا ہے

فرحت احساس




ہمیں جب اپنا تعارف کرنا پڑتا ہے
نہ جانے کتنے دکھوں کو دبانا پڑتا ہے

فرحت احساس




ہر گلی کوچے میں رونے کی صدا میری ہے
شہر میں جو بھی ہوا ہے وہ خطا میری ہے

فرحت احساس




ہجر و وصال چراغ ہیں دونوں تنہائی کے طاقوں میں
اکثر دونوں گل رہتے ہیں اور جلا کرتا ہوں میں

فرحت احساس