EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

متاع درد مآل حیات ہے شاید
دل شکستہ مری کائنات ہے شاید

فرحان سالم




شوق بے حد نے کسی گام ٹھہرنے نہ دیا
ورنہ کس گام مرا خون تمنا نہ ہوا

فرحان سالم




تجھے خبر ہی نہیں ہے یہ قصۂ کوتاہ
جہاں پہ بت نہ گرے کب وہاں حرم اترا

فرحان سالم




انہیں گماں کہ مجھے ان سے ربط ہے سالمؔ
مجھے یہ وہم انہیں التفات ہے شاید

فرحان سالم




یوں بھی کیا ہے ہم نے حق دلبری ادا
اپنی ہی جیت اپنے ہی ہاتھوں سے ہار دی

فرحان سالم




کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے
تمہارا درد کئی کام لے گیا مجھ سے

فرحت عباس شاہ




میں بے خیال کبھی دھوپ میں نکل آؤں
تو کچھ سحاب مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں

فرحت عباس شاہ