EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اب مجھ سے سنبھلتی نہیں یہ درد کی سوغات
لے تجھ کو مبارک ہو سنبھال اپنی یہ دنیا

فرحان سالم




اب اس مقام پہ ہے موسموں کا سرد مزاج
کہ دل سلگنے لگے اور دماغ جلنے لگے

فرحان سالم




عکس کچھ نہ بدلے گا آئنوں کو دھونے سے
آذری نہیں آتی پتھروں پہ رونے سے

فرحان سالم




ہے میری آنکھوں میں عکس نوشتہ دیوار
سمجھ سکو تو مرا نطق بے زباں لے لو

فرحان سالم




ہیں ان میں بند کسی عہد رستخیز کے عکس
یہ میری آنکھیں عجائب گھروں میں رکھ آنا

فرحان سالم




حوصلہ سب نے بڑھایا ہے مرے منصف کا
تم بھی انعام کوئی میری سزا پر لکھ دو

فرحان سالم




ہوں واردات کا عینی گواہ میں مجھ سے
یہ میری موت سے پہلے مرا بیاں لے لو

فرحان سالم