EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اے صدف سن تجھے پھر یاد دلا دیتا ہوں
میں نے اک چیز تجھے دی تھی گہر کرنے کو

فرحت احساس




عورتیں کام پہ نکلی تھیں بدن گھر رکھ کر
جسم خالی جو نظر آئے تو مرد آ بیٹھے

فرحت احساس




بڑا وسیع ہے اس کے جمال کا منظر
وہ آئینے میں تو بس مختصر سا رہتا ہے

فرحت احساس




بچا کے لائیں کسی بھی یتیم بچے کو
اور اس کے ہاتھ سے تخلیق کائنات کریں

فرحت احساس




بن نہ پایا ہیر، رانجھا اب بھی رانجھا ہے بہت
دیکھ وارث شاہ تیری ہیر آدھی رہ گئی

فرحت احساس




بس ایک لمس کہ جل جائیں سب خس و خاشاک
اسے وصال بھی کہتے ہیں خوش بیانی میں

فرحت احساس




بے بدن روح بنے پھرتے رہوگے کب تک
جاؤ چپکے سے کسی جسم میں داخل ہو جاؤ

فرحت احساس