EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

طرب کا رنگ محبت کی لو نہیں دیتا
طرب کے رنگ میں کچھ درد بھی سمو لیں آج

فرید جاوید




بگولہ بن کے اڑا خواہشوں کے صحرا میں
ٹھہر گیا تو فقط تھا غبار میری طرح

فرید پربتی




فریدؔ اک دن سہارے زندگی کے ٹوٹ جائیں گے
سبب یہ ہے کہ خود کو بے سہارا کر رہا ہوں میں

فرید پربتی




کبھی میری طلب کچے گھڑے پر پار اترتی ہے
کبھی محفوظ کشتی میں سفر کرنے سے ڈرتا ہوں

فرید پربتی




کسی پہ کرنا نہیں اعتبار میری طرح
لٹا کے بیٹھوگے صبر و قرار میری طرح

فرید پربتی




تمہیں بھی بھولنے کی کوششیں کیں
کہ خود پر بھی قیامت کر گیا وہ

فرید پربتی




عام ہے اذن کہ جو چاہو ہوا پر لکھ دو
عشق زندہ ہے ذرا دست صبا پر لکھ دو

فرحان سالم