EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے
عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

فرحت احساس




دراصل اس جہاں کو ضرورت نہیں مری
ہر چند اس جہاں کے لیے ناگزیر میں

فرحت احساس




دھوپ بولی کہ میں آبائی وطن ہوں تیرا
میں نے پھر سایۂ دیوار کو زحمت نہیں دی

فرحت احساس




دو الگ لفظ نہیں ہجر و وصال
ایک میں ایک کی گویائی ہے

فرحت احساس




دنیا سے کہو جو اسے کرنا ہے وہ کر لے
اب دل میں مرے وہ علیٰ الاعلان رہے گا

فرحت احساس




ایک بار اس نے بلایا تھا تو مصروف تھا میں
جیتے جی پھر کبھی باری ہی نہیں آئی مری

فرحت احساس




ایک بوسے کے بھی نصیب نہ ہوں
ہونٹھ اتنے بھی اب غریب نہ ہوں

فرحت احساس