مقید ہو نہ جانا ذات کے گنبد میں یارو
کسی روزن کسی دروازہ کو وا چھوڑ دینا
اعجاز عبید
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سحر ہوتے ہی کوئی ہو گیا رخصت گلے مل کر
فسانے رات کے کہتی رہی ٹوٹی ہوئی چوڑی
اعجاز عبید
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو
ابھی یارو سفر کی ابتدا ہے
اعجاز رحمانی
فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے
خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا
اعجاز رحمانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
گزر رہا ہوں میں سودا گروں کی بستی سے
بدن پہ دیکھیے کب تک لباس رہتا ہے
اعجاز رحمانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جہاں پہ ڈوب گیا میری آس کا سورج
اسی جگہ وہ ستارہ شناس رہتا ہے
اعجاز رحمانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تالاب تو برسات میں ہو جاتے ہیں کم ظرف
باہر کبھی آپے سے سمندر نہیں ہوتا
اعجاز رحمانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

