EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مقید ہو نہ جانا ذات کے گنبد میں یارو
کسی روزن کسی دروازہ کو وا چھوڑ دینا

اعجاز عبید




سحر ہوتے ہی کوئی ہو گیا رخصت گلے مل کر
فسانے رات کے کہتی رہی ٹوٹی ہوئی چوڑی

اعجاز عبید




ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو
ابھی یارو سفر کی ابتدا ہے

اعجاز رحمانی




فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے
خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا

اعجاز رحمانی




گزر رہا ہوں میں سودا گروں کی بستی سے
بدن پہ دیکھیے کب تک لباس رہتا ہے

اعجاز رحمانی




جہاں پہ ڈوب گیا میری آس کا سورج
اسی جگہ وہ ستارہ شناس رہتا ہے

اعجاز رحمانی




تالاب تو برسات میں ہو جاتے ہیں کم ظرف
باہر کبھی آپے سے سمندر نہیں ہوتا

اعجاز رحمانی