EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نہیں کھلتا کہ آخر یہ طلسماتی تماشا سا
زمیں کے اس طرف اور آسماں کے اس طرف کیا ہے

اعجاز گل




نتیجہ ایک سا نکلا دماغ اور دل کا
کہ دونوں ہار گئے امتحاں میں دنیا کے

اعجاز گل




پایا نہ کچھ خلا کے سوا عکس حیرتی
گزرا تھا آر پار ہزار آئنے کے ساتھ

اعجاز گل




قسمت کی خرابی ہے کہ جاتا ہوں غلط سمت
پڑتا ہے بیابان بیابان سے آگے

اعجاز گل




سست رو مسافر کی قسمتوں پہ کیا رونا
تیز چلنے والا بھی دشت بے اماں میں ہے

اعجاز گل




اٹھا رکھی ہے کسی نے کمان سورج کی
گرا رہا ہے مرے رات دن نشانے سے

اعجاز گل




ہتھیلیوں میں لکیروں کا جال تھا کتنا
مرے نصیب میں میرا زوال تھا کتنا

اعجاز عبید