EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نیا بسمل ہوں میں واقف نہیں رسم شہادت سے
بتا دے تو ہی اے ظالم تڑپنے کی ادا کیا ہے

چکبست برج نرائن




وطن کی خاک سے مر کر بھی ہم کو انس باقی ہے
مزا دامان مادر کا ہے اس مٹی کے دامن میں

چکبست برج نرائن




یہ کیسی بزم ہے اور کیسے اس کے ساقی ہیں
شراب ہاتھ میں ہے اور پلا نہیں سکتے

چکبست برج نرائن




زبان حال سے یہ لکھنؤ کی خاک کہتی ہے
مٹایا گردش افلاک نے جاہ و حشم میرا

چکبست برج نرائن




زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

چکبست برج نرائن




جن کا مقصد فریب ہوتا ہے
وہ بڑی سادگی سے ملتے ہیں

چمن لال چمن




مہنگائی میں ہر اک شے کے دام ہوئے ہیں دونے
مجبوری میں بکے جوانی دو کوڑی کے مول

چمن لال چمن