EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

شہر میں جرم و حوادث اس قدر ہیں آج کل
اب تو گھر میں بیٹھ کر بھی لوگ گھبرانے لگے

چندر بھان خیال




سوچتا ہوں تو اور بڑھتی ہے
زندگی ہے کہ پیاس ہے کوئی

چندر بھان خیال




صبح آتی ہے دبے پاؤں چلی جاتی ہے
گھیر لیتا ہے مجھے شام ڈھلے سناٹا

چندر بھان خیال




تیری پرچھائیں سمٹتی جائے گی
جیسے جیسے پھیلتا جائے گا تو

چندر بھان خیال




تم جسے سمجھے ہو دنیا اس کے آنچل کے تلے
گیسوؤں کے پیچ اور خم کے سوا کچھ بھی نہیں

چندر بھان خیال




وقت اور حالات پر کیا تبصرہ کیجے کہ جب
ایک الجھن دوسری الجھن کو سلجھانے لگے

چندر بھان خیال




وہ جہاں چاہے چلا جائے یہ اس کا اختیار
سوچنا یہ ہے کہ میں خود کو کہاں لے جاؤں گا

چندر بھان خیال