EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کوئی دانا کوئی دیوانہ ملا
شہر میں ہر شخص بیگانہ ملا

چندر بھان خیال




کیا اسی کا نام ہے رعنائیٔ بزم حیات
تنگ کمرہ سرد بستر اور تنہا آدمی

چندر بھان خیال




لے گیا وہ چھین کر میری جوانی
اس پہ بس یوں ہی جھپٹ کر رہ گیا میں

چندر بھان خیال




لوگ منزل کی طرف لپکے ہیں لیکن
بھیڑ میں غفلت بھی شامل ہو گئی ہے

چندر بھان خیال




ملتا نہیں خود اپنے قدم کا نشاں مجھے
کن مرحلوں میں چھوڑ گیا کارواں مجھے

چندر بھان خیال




نظر میں شوخ شبیہیں لیے ہوئے ہے سحر
ابھی نہ کوئی ادھر سے دھواں دھواں گزرے

چندر بھان خیال




پاس سے دیکھا تو جانا کس قدر مغموم ہیں
ان گنت چہرے کہ جن کو شادماں سمجھا تھا میں

چندر بھان خیال