EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

موت آئے گی اس سے مل لیں گے
اب چلو زندگی سے ملتے ہیں

چمن لال چمن




ہائے کتنا لطیف ہے وہ غم
جس نے بخشا ہے زندگی کا شعور

چندر پرکاش جوہر بجنوری




اپنی دیواروں سے کچھ باہر نکل
صرف خالی گھر کے بام و در نہ دیکھ

چندر بھان خیال




ہمارے گھر کے آنگن میں ستارے بجھ گئے لاکھوں
ہماری خواب گاہوں میں نہ چمکا صبح کا سورج

چندر بھان خیال




انسان کی دنیا میں انساں ہے پریشاں کیوں
مچھلی تو نہیں ہوتی بے چین کبھی جل میں

چندر بھان خیال




کر گیا سورج سبھی کو بے لباس
اب کوئی سایہ کوئی پیکر نہ دیکھ

چندر بھان خیال




کون دہشت گرد ہے اور کون ہے دہشت زدہ
یہ سب اک ابہام پیہم کے سوا کچھ بھی نہیں

چندر بھان خیال