EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ ان کا کھیل تو دیکھو کہ ایک کاغذ پر
لکھا بھی نام مرا اور پھر مٹا بھی دیا

بشیر الدین احمد دہلوی




زور سے سانس جو لیتا ہوں تو اکثر شب غم
دل کی آواز عجب درد بھری آتی ہے

بشیر الدین احمد دہلوی




اب دل کو سمجھائے کون
بات اگرچہ ہے معقول

باصر سلطان کاظمی




اپنی باتوں کے زمانے تو ہوا برد ہوئے
اب کیا کرتے ہیں ہم صورت حالات پہ بات

باصر سلطان کاظمی




بڑھ گئی تجھ سے مل کے تنہائی
روح جویائے ہم سبو تھی بہت

باصر سلطان کاظمی




باصرؔ تمہیں یہاں کا ابھی تجربہ نہیں
بیمار ہو؟ پڑے رہو، مر بھی گئے تو کیا

باصر سلطان کاظمی




چمکی تھی ایک برق سی پھولوں کے آس پاس
پھر کیا ہوا چمن میں مجھے کچھ خبر نہیں

باصر سلطان کاظمی