EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تیرے دیے ہوئے دکھ
تیرے نام کریں گے

باصر سلطان کاظمی




تو جب سامنے ہوتا ہے
اور کہیں ہوتا ہوں میں

باصر سلطان کاظمی




دلبروں کے شہر میں بیگانگی اندھیر ہے
آشنائی ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں لے کر دیا

بیاں احسن اللہ خان




ہم سرگزشت کیا کہیں اپنی کہ مثل خار
پامال ہو گئے ترے دامن سے چھوٹ کر

بیاں احسن اللہ خان




لہو ٹپکا کسی کی آرزو سے
ہماری آرزو ٹپکی لہو سے

بیاں احسن اللہ خان




سیرت کے ہم غلام ہیں صورت ہوئی تو کیا
سرخ و سفید مٹی کی مورت ہوئی تو کیا

بیاں احسن اللہ خان




ادائیں تا ابد بکھری پڑی ہیں
ازل میں پھٹ پڑا جوبن کسی کا

بیان میرٹھی