EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مری نماز مری بندگی مرا ایماں
ترا خیال تری یاد آرزو تیری

بشیر فاروق




آگہی کرب وفا صبر تمنا احساس
میرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ خنجر سارے

بشیر فاروقی




عجب سی آگ تھی جلتا رہا بدن سارا
تمام عمر وہ ہونٹوں پہ بن کے پیاس رہا

بشیر فاروقی




چلے بھی آؤ کہ یہ ڈوبتا ہوا سورج
چراغ جلنے سے پہلے مجھے بجھا دے گا

بشیر فاروقی




ہم تیرے پاس آ کے پریشان ہیں بہت
ہم تجھ سے دور رہنے کو تیار بھی نہیں

بشیر فاروقی




پہلے ہم نے گھر بنا کر فاصلے پیدا کیے
پھر اٹھا دیں اور دیواریں گھروں کے درمیاں

بشیر فاروقی




تذکرے میں ترے اک نام کو یوں جوڑ دیا
دوستوں نے مجھے شیشے کی طرح توڑ دیا

بشیر فاروقی