EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اے تن پرست جامۂ صورت کثیف ہے
بزم حضور دوست میں کپڑے بدل کے چل

بیان میرٹھی




دل آیا ہے قیامت ہے مرا دل
اٹھے تعظیم دے جوبن کسی کا

بیان میرٹھی




گوہر مقصد ملے گر چرخ مینائی نہ ہو
غوطہ زن بحر حقیقت میں ہوں گر کائی نہ ہو

بیان میرٹھی




ہوائے وحشت دل لے اڑی کہاں سے کہاں
پڑی ہے دور زمیں گرد کارواں کی طرح

بیان میرٹھی




ہزاروں دل مسل کر پیر سے جھنجھلا کے یوں بولے
لو پہچانو تمہارا ان دلوں میں کون سا دل ہے

بیان میرٹھی




کبھی ہنسایا کبھی رلایا کبھی رلایا کبھی ہنسایا
جھجک جھجک کر سمٹ سمٹ کر لپٹ لپٹ کر دبا دبا کر

بیان میرٹھی




نہیں یہ آدمی کا کام واعظ
ہمارے بت تراشے ہیں خدا نے

بیان میرٹھی