EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو
پھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو

باصر سلطان کاظمی




گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی
وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ

باصر سلطان کاظمی




جب بھی ملے ہم ان سے انہوں نے یہی کہا
بس آج آنے والے تھے ہم آپ کی طرف

باصر سلطان کاظمی




کیسے یاد رہی تجھ کو
میری اک چھوٹی سی بھول

باصر سلطان کاظمی




ختم ہوئیں ساری باتیں
اچھا اب چلتا ہوں میں

باصر سلطان کاظمی




کچھ تو حساس ہم زیادہ ہیں
کچھ وہ برہم زیادہ ہوتا ہے

باصر سلطان کاظمی




رک گیا ہاتھ ترا کیوں باصرؔ
کوئی کانٹا تو نہ تھا پھولوں میں

باصر سلطان کاظمی