EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کبھی در پر کبھی ہے رستے میں
نہیں تھکتی ہے انتظار سے آنکھ

بشیر الدین احمد دہلوی




کہتے ہیں عرض وصل پر وہ کہو
دوسری بات دوسرا مطلب

بشیر الدین احمد دہلوی




مرا دل بھی طلسمی ہے خزانہ
کہ اس میں خیر بھی ہے اور شر بند

بشیر الدین احمد دہلوی




رہائی جیتے جی ممکن نہیں ہے
قفس ہے آہنی دربند پر بند

بشیر الدین احمد دہلوی




شام بھی ہے صبح بھی ہے اور دن بھی رات بھی
ماہ تاباں اب بھی ہے مہر درخشاں اب بھی ہے

بشیر الدین احمد دہلوی




وہ اپنے مطلب کی کہہ رہے ہیں زبان پر گو ہے بات میری
ہے چت بھی ان کی ہے پٹ بھی ان کی ہے جیت ان کی ہے مات میری

بشیر الدین احمد دہلوی




یہ چھیڑ کیا ہے یہ کیا مجھ سے دل لگی ہے کوئی
جگایا نیند سے جاگا تو پھر سلا بھی دیا

بشیر الدین احمد دہلوی