کبھی در پر کبھی ہے رستے میں
نہیں تھکتی ہے انتظار سے آنکھ
بشیر الدین احمد دہلوی
کہتے ہیں عرض وصل پر وہ کہو
دوسری بات دوسرا مطلب
بشیر الدین احمد دہلوی
مرا دل بھی طلسمی ہے خزانہ
کہ اس میں خیر بھی ہے اور شر بند
بشیر الدین احمد دہلوی
رہائی جیتے جی ممکن نہیں ہے
قفس ہے آہنی دربند پر بند
بشیر الدین احمد دہلوی
شام بھی ہے صبح بھی ہے اور دن بھی رات بھی
ماہ تاباں اب بھی ہے مہر درخشاں اب بھی ہے
بشیر الدین احمد دہلوی
وہ اپنے مطلب کی کہہ رہے ہیں زبان پر گو ہے بات میری
ہے چت بھی ان کی ہے پٹ بھی ان کی ہے جیت ان کی ہے مات میری
بشیر الدین احمد دہلوی
یہ چھیڑ کیا ہے یہ کیا مجھ سے دل لگی ہے کوئی
جگایا نیند سے جاگا تو پھر سلا بھی دیا
بشیر الدین احمد دہلوی

